ایڈیٹر فیصل ملک Urdu Times of Pakistan
25 فروری
اسلام آباد … اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا،جس میں مرکز اور صوبوں میں مخلوط حکومت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس میں پارلے مانی قائدین کے ناموں کو بھی حتمی شکل دی گئی ۔ذرائع کے مطابق وزارت عظمیٰ کے لئے مخدوم امین فہیم جبکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے لئے آغا سراج درانی کے نام پر اتفاق کیا گیا ۔اجلاس میں پارلیمانی لیڈر کی نامزدگی کے لئے آصف علی زرداری کو اختیار دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہ نما مخدوم امین فہیم ،پارٹی سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر ،سید یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہنما بھی شریک تھے ۔اجلاس میں صوبائی حکومت کی تشکیل پر ارکان کو اعتماد میں لیا گیا اوربلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر مقرر کرنے سمیت دیگر اہم امور پر غور کیا گیا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ ، نئی قومی اسمبلی کی پہلی قرار داد ہوگی ۔
بشکریہ: جنگ
پاکستان پپلزپارٹی کی جانب سے بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر معافی طلب کرنے کے عمل کا بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) ابھی جائزہ لے رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اب وہ صرف الفاظ پر یقین نہیں کریں گے بلکہ وعدے کرنے والوں کے عمل کا انتظار کریں گے۔
بی این پی یعنی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے اتوار کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سردار اختر جان مینگل کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو ختم کیا جائے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔
پاکستان پپلز پارٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں کئی قراردادیں منظور ہوئیں جن میں بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے کے مطالبے کے علاوہ، اختر مینگل سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی اور پولیس کی بجائے لیویز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا۔
قراردادوں میں پیپلز پارٹی نے پاکستانی عوام کی طرف سے بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کی معافی مانگتے ہوئے باہمی عزت و احترام اور حسنِ سلوک کا نیا باب شروع کرنے کا وعدہ کیا۔
|
ظلم و تشدد کا سلسلہ جاری ہے
|
بی این پی (مینگل گروپ) کی مرکزی کمیٹی کے رکن حمید ساجنا نے پیپلزپارٹی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی ہم اس بیان کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ گذشتہ آمروں کی طرح ان کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ حکومت بنانے کے بعد عملاً وہ کیا کرتے ہیں کیونکہ باتیں تو سب ہی کرتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال گذرنے کے باوجود سردار اختر مینگل کو رہا نہیں کیا گیا ہے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے بلوچستان کے مظلوم عوام کے لیے آواز بلند کی تھی، دوسری جانب بلوچستان میں ظلم اور کئی علاقوں میں تشدد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور سینکڑوں بلوچ اب تک نہ صرف لاپتہ ہیں بلکہ قید میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد الیکشن تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ بلوچستان کی خودمختاری تک جاری رہے گی۔
حمید ساجنا نے سردار اختر مینگل کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی رہائی کے لیے بلوچ پرامن جدوجہد کرتے رہیں گے چاہے انہیں اپنی جانوں کا نذرانہ ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے۔
بشکریہ: بی بی سی اردو
25 فروری
پاکستان پیپلز پارٹی کی بلوچستان کی پارلیمانی پارٹی نےصوبے میں فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں کئی قراردادیں منظور ہوئیں جن میں صوبے میں فوجی کارروائی روکنے کے مطالبے کے علاوہ، اختر مینگل سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی اور پولیس کی بجائے لیویز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا اور انیس سو تہترکےآئین کی بحالی کےلیےکام کرنےکااعادہ کیاگیا۔
پارٹی کی صدارت شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری نے کی۔ اجلاس میں نائب صدور مخدوم امین فہیم اور سید یوسف رضا گیلانی، سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر اور پی پی پی پارلیمنٹیرین کے جنرل سیکرٹری راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے۔ اجلاس میں پارٹی کی مرحوم سربراہ بینظیر بٹھو کے لیے دعا بھی کی گئی۔
قراردادوں میں پیپلز پارٹی نے پاکستانی عوام کی طرف سے بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کی معافی مانگتے ہوئے باہمی عزت و احترام اور حسنِ سلوک کا نیا باب شروع کرنے کا وعدہ کیا۔
قراردادوں کے مطابق پیپلز پارٹی بلوچستان سن انیسن سو تہتر کے آئین کے اندر رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری دینے کے لیے کام کرے گی۔
بشکریہ: بی بی سی اردو