ایڈیٹر فیصل ملک Urdu Times of Pakistan
15 فروری
![]() |
|
| سولہویں صدی میں مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر اور جودھا کی محبت کی داستان ہے |
آشوتوش گواریکر کی ہدایت میں بنی فلم’جودھا اکبر‘ پندرہ فروری کو بیک وقت چھبیس ممالک میں ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے۔
سولہویں صدی میں مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر اور جودھا کی محبت کی داستان پر بنی اس فلم میں اکبر کا کردار رتیک روشن نے نبھایا ہے اور ان کی جودھا بنی ہیں ایشوریہ رائے۔
’لگان‘ جیسی کامیاب فلم بنا چکے گواریکر نے فلم’جودھا اکبر‘ کا سیٹ ممبئی سے نوے کلومیٹر دور کرجت میں بنایا تھا۔ فلم میں میدان جنگ میں اسی ہاتھی سو گھوڑے اور پچپن اونٹ استعمال کیے گئے۔فلم میں تلوار چلانے کے لیے ایشوریہ رائے اور رتیک دونوں کو تلوار بازی سکھائی گئی۔
فلم کے نغمے جاوید اختر نے لکھے ہیں اور موسیقی اے آر رحمن نے دی ہے۔اس فلم کا ایک گیت’عظیم الشان شہنشاہ‘ فلمانے کے لیے گواریکر نے ایک ہزار کے قریب رقاص اور رقاصاؤں پر شوٹنگ کی۔
فلم تین زبانوں میں ڈب کی گئی ہے۔ہندی، تیلگو اور تمل۔فلم چونکہ دنیا کے چھبیس ممالک میں ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے اس لیے غیر ممالک میں بھیجے جانے والے پرنٹس پر عربی، انگریزی اور ڈچ زبان میں مکالموں کوسب ٹائٹل کے طور پر لکھا گیا ہے۔
![]() |
|
| فلم کے مخالفین کے مطابق اکبر کی کوئی بھی بیوی اس نام کی نہیں تھی اور جودھا دراصل اکبر نہیں بلکہ سلیم کی بیوی یعنی اکبر کی بہو تھیں۔ |
یو ٹی وی کے ترجمان کے مطابق فلم کچھ عرصہ بعد پاکستان میں بھی نمائش کے لیے پیش ہو گی۔امریکہ میں اس کے ایک سو بائس پرنٹس بھیجے جائیں گے جو یو ٹی وی کے مطابق اب تک کی ہندی فلم کا ریکارڈ ہو گا۔ کینیڈا کے پانچ شہروں میں بیک وقت فلم کی نمائش ہو گی۔
گواریکر کے مطابق اس فلم کو شروع کرنے سے قبل انہوں نے لکھنو، نئی دہلی، آگرہ اور جے پور کی ریسرچ ٹیم سے مشورہ لیا تھا۔ان کے مطابق جودھا جے پور میں عمیر کے راجہ بھر مل کی بیٹی تھیں لیکن راجستھان کے لوگوں نے اس بات کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکبر کی کوئی بھی بیوی اس نام کی نہیں تھی اور جودھا دراصل اکبر نہیں بلکہ سلیم کی بیوی یعنی اکبر کی بہو تھیں۔
بشکریہ: بی بی سی اردو
15 فروری
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پنجاب میں پیپلز پارٹی کا پہلا جلسۂ عام فیصل آباد میں منعقد ہو رہا ہے اور اس حوالے سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے اب تک کے اعلان کے مطابق جمعرات کو ہونے والے اس جلسسے کے علاوہ انتخابات تک کوئی دوسرا مرکزی جلسہ نہیں ہوگا۔
جلسہ کے لیے کئی روز سے تیاریاں جاری رہیں۔ جلسے کے لیے سٹیج ایک خاص طریقے سے بنایا گیا ہے جس پر بلٹ پروف شیشے کی دو ’شیلڈز‘ ہیں، ایک شیلڈ بیٹھے ہوئے لوگوں کے گرد ہے اور دوسری مقرر کے لیے ہے۔
میڈیا کے لیے چند گز دور ایک الگ سٹیج بنایا گیا ہے جبکہ دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں چار روز سے عام لوگوں کا داخلہ بند ہے۔ جلسے کے منتظیمین نے بتایا کہ جلسہ کے دن بھی گراؤنڈ کے چار میں سے دو دروازے مسلسل بند رہیں گے جبکہ ایک دروازہ آصف زرداری اور ان کے ڈھائی سو ذاتی محافظوں کے داخلے اور واپسی کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ دوسرے سے عام شہری جامہ تلاشی کے بعد داخل ہوسکیں گے۔
![]() |
|
| گراؤنڈ میں چار روز سے عام لوگوں کا داخلہ بند ہے |
دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں موجود سپیشل برانچ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے چار روز سے اس گراؤنڈ میں ڈیرہ جما رکھا ہے اور اردگرد کی عمارتوں کی چھان بین کے بعد ان کی چھتوں پر مورچے قائم کیے گئے ہیں۔
جلسے کے لیے صرف اس پنڈال میں اور اردگرد ڈھائی ہزار پولیس اہلکار تعینات کیےگئے ہیں، چھ خفیہ کیمرے نصب ہیں اور جاسوس کتوں کی مدد بھی لی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی فیصل آباد کے رہنما نئیر حسن ڈار نے کہا ہے کہ اس جلسہ کی سکیورٹی مکمل طور پر پولیس اور انتظامیہ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے اور وہ اس سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’بےنظیر نے حالیہ انتخابی مہم کے لیے چار جنوری کو فیصل آباد میں جلسے کا اعلان کیا تھا اور فیصل آباد کے شہری ان کا انتظار کررہےتھے کہ وہ اس قوم پر قربان ہوگئیں‘۔
![]() |
|
| پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایک مشعل بردار ریلی بھی نکالی |
جلسے کے حوالے سے پورے شہر میں جگہ جگہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے، تیر کے انتخابی نشان والے بینر اور بے نظیر بھٹو،آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔
بدھ کی شام فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایک مشعل بردار ریلی بھی نکالی اور’زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے لگائے۔ ریلی کے شرکاء نے آصف زرداری اور بےنظیر کی تصویروں والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔
بشکریہ: بی بی سی اردو
11 فروری
مصر کی عدالت نےان بارہ عیسائیوں کا عقیدہ سرکاری طور پر قبول کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نےاسلام قبول کرنے کے بعد واپس عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔
عدالت نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو رد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت اسلام سے دوسرے مذہب میں شامل ہونے کے عمل کو تسلیم نہیں کرتی۔
یہ مقدمہ مصر کی مذہبی رواداری کا ایک امتحان تھا۔
ان بارہ عیسائیوں کے وکیل نے اس فیصلے کو مذہبی آزادی اورانسانی حقوق کی جیت قرار دیا ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان لوگوں کو حوصلہ ملے گا جو واپس اپنا مذہب بدلنا چاہتے ہیں۔
حالانکہ اس فیصلے کا اطلاق محدود حالات میں ہوگا بتایا جاتا ہے کہ جج نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کو اسلام ترک کرنے کی بنیاد پر مرتد قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ دراصل عیسائی پیدا ہوئے تھے۔
اس کا مطلب یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ جو مصری مسلمان پیدا ہوئے ہیں انہیں مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ اسلام ترک کرنا غلط ہے اور کچھ کے خیال میں اس کی سزا موت ہے۔
گزشتہ برس ایک مصری شہری کو تبدیلیِ مذہب کے بعد اس وقت روپوش ہونا پڑا جب اس نے اپنے نئے مذہب کو سرکاری طور پرتسلیم کرانے کی کوشش کی اور اسے موت کی دھمکیاں ملنے لگیں۔
بشکریہ: بی بی سی اردو