ایڈیٹر فیصل ملک Urdu Times of Pakistan
15 فروری
ڈنمارک میں اخبارات نے پیغمبرِ اسلام کے ان متنازعہ کارٹونوں میں سے ایک کارٹون دوبارہ شائع کیا ہے جس کی وجہ سے سنہ 2005 میں مسلم دنیا میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔
ان اخبارات کی جانب سے یہ کارٹون ایک کارٹونسٹ کے قتل کی مبینہ سازش کے سامنے آنے کے بعد بدھ کی اشاعت میں چھاپا گیا ہے اور ان اخبارات کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔
دوبارہ کارٹون چھاپنے والے ایک اخبار کے ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ’ایک خاکے کی وجہ سے کسی کی بھی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے‘۔
کارٹونسٹ کے قتل کی سازش کے حوالے سےمنگل کو تین افراد گرفتار کیے گئے تھے جن میں سے ایک ڈنمارک کا جبکہ دو تیونس کے شہری ہیں۔ ڈینش شہری کو بدھ کو رہا کر دیا گیا جبکہ تیونس کے شہریوں کو بنا مقدمہ چلائے ملک بدر کیا جانے والا ہے۔
بی بی سی کے ٹھامس اینڈرسن کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ اخبارات کی جانب سے اظہارِ آزادی کے حق میں چلائی جانے والی مہم کی حمایت وہ اخبارات بھی کر رہے ہیں جو ان متنازعہ کارٹونوں کی پہلی اشاعت کے وقت ان کے مخالف تھے۔
یاد رہے کہ یہ متنازعہ کارٹون پہلی مرتبہ ستمبر سنہ 2005 میں شائع ہوا تھا اور اس کے بعد دنیا بھر میں نہ صرف ڈنمارک کے سفارتخانوں پر حملے ہوئے تھے بلکہ پرتشدد ہنگاموں میں متعدد افراد مارے بھی گئے تھے۔
بشکریہ: بی بی سی اردو