ایڈیٹر فیصل ملک Urdu Times of Pakistan
5 فروری
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کا کہنا ہے کہ اگر ہند امریکہ جوہری معاہدہ میں پیش رفت نہيں ہوتی ہے تو خطرہ ہے کہ ہندوستان عالمی برادری میں تنہا رہ جائے۔
پرنب مکھرجی نے ایک انگریزی اخبار ٹیلی گراف سے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ہند امریکہ جوہری معاہدے میں پیش رفت نہيں ہوتی ہے تو ہندوستان دنیا میں الگ تھلگ پڑ سکتا ہے۔’ ہم دنیا سے الگ نہيں رہ سکتے ہیں اور اگر ہم معاہدہ میں آگے نہیں بڑھتے ہيں تو ہمیں پابندیاں جھیلنی پڑ سکتی ہے اور پریشانیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔‘
ہند امریکہ جوہری معاہدہ مرکز ی حکومت کو باہر سے حمایت دینے والے بائیں محاذ کی شدید مخالفت کے سبب تعطل کا شکار ہے۔
کمیونیسٹ جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ جوہری معاہدہ امریکہ کو ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔
انہوں نے دھکمی دے رکھی ہے کہ اگر حکومت اس معاہدے میں پیش رفت کرتی ہے تو کمیونیسٹ جماعتیں حکومت سے اپنی حمایت واپس لے سکتی ہے اور کمونیسٹ جماعتوں کی حمایت کی واپسی کے نتیجہ میں ممکنہ طور پر ملک میں وسط مدتی انتحابات ہوسکتے ہيں۔
ہندوستان نے ویانا میں جوہری معاہدے کی منظوری سے متعلق اہم مذاکرات اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارہ آئی اے ای اے سے اس وقت شروع کیے تھے جب بائیں بازوں کی جماعتوں نے حکومت کو بات چیت کے لیے اجازت دی تھی۔
بائیں بازوں کی جماعتوں نے حکومت کو اس شرط پر بات چیت کی اجازت دی تھی کہ معاہدے پو دستخط نہیں کیے جائیں گے اور جوہری معاہدے سے متعلق تشکیل کردہ کمیٹی میں بات چیت پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
مقامی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مکھرجی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور آئي اے ای اے کو ایک مشترکہ طریقہ کار تلاش کرنا ابھی بھی باقی ہے اور ویانا مذاکرات جاری رہیں گے۔
مکھرجی نے کہا کہ توانائی کے لیے ہندوستان صرف کوئلے پر انحصار نہیں کر سکتا۔
جوہری معاہدے کی مخالفت ہندوستان سے باہر بھی کی گئی تھی۔ جوہری معاہدہ کے بعد ہندوستان استعمال شدہ جوہری توانائی کا دوبارہ استمعال کرسکتا ہے۔ جس کی مخالفت امریکی کانگریس کے بعض ارکان بھی کر رہے ہيں۔
Leave a reply
You must be logged in to post a comment.