مصنف: شعیب صفدر

پانچ فروری 1990 کو پہلی بار پاکستان میں کشمیر ڈے یا یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا! وفاق میں بی بی کی حکومت تھی اور پنجاب میں نواز شریف کی! نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے منتخب ہو کر آئے تھے اور جماعت اسلامی اس کا حصہ تھی! دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ اس سے قبل بی بی بھارت کو اُن سکھ رہنماؤں کی لسٹ خفیہ طور پر دے چکی تھی جو بھارتی پنجاب کو آزاد کروا کر اپنا الگ ملک بنانے والے تھے، اس لسٹ پر بھارتی حکومت نے سکھوں کی تحریک کے قریب چھ سے سات سو افراد کو ٹھکانے لگا کر سکھ کا سانس لیا! یہ ہی وہ عمل تھا جس کی بناء پر بی بی مستقبل میں سیکورٹی رسک کہی جانے لگی! فوج اور ایجنسیوں کو اُن پر اعتماد نہیں رہا! بعد میں شاید اپنی حکومت بچانے کیلئے اسلامی اتحاد کے زیر اثر “یوم یکجہتی کشمیر“ منایا گیا۔ (وہ الگ بات اس کے بعد بھی بینظیر کی حکومت جاتی رہی)

پاکستان کی اُس نسل سی میرا تعلق ہے جن کی پیدائش سے پہلے ہی پاکستان سکڑ کر صرف مغربی حصہ تک محدود ہو چکا تھا جب ہوش سنبھالی تو ملک آمریت سے دوبارہ جمہوریت (اِسے محدود جمہوریت کہنا درست ہو گا) کے دور میں تازہ تازہ داخل ہوا تھا۔ دوکان پر ٹافی لینے جاتے تو کاونٹر پر ایک ڈبہ پڑا ہوتا جس پر تحریر ہوتا “جہاد کشمیر فنڈ“ (دہشت گردی پڑھے کہ یہ نیا نام ہے) ۔ اکثر جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کا مولوی مسجد کے لئے فنڈ مانگنے کہ علاوہ ایک “جہاد کشمیر“ کے سلسے میں رقم (فنڈ) جمع کرنے آئے ہوئے کسی گروپ کا تعارف مجاہدین کشمیر کے طور پر کرواتا اور اُن سے بھرپور تعاون کی استعدا کرتا۔ مدرسے کی دیواروں پر، بسوں کے شیشوں پر، محلے کی دوکان کے شوکیسوں پر اور دفاتر کی میزوں وغیرہ پر جہاد سے متعلق اسٹیکر چپسا ہوتے، جن پر جہاد کشمیر، فلسطین افغانستان اور پھر ہوتے ہوتے اس لسٹ میں چیچینیا اور بوسنیا بھی شامل ہو گئے تھے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی ایسی کی تیسی کرنے والے جملے اور پیغامات درج ہوتے۔ یہ اسٹیکر مختلف جہادی تنظیموں کے اسپانسر کئے ہوتے جو مختلف مسلکوں سے تعلق رکھتی تھی۔ ان تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف رسائل چھاپے جاتے جن میں یہ کشمیر میں اپنے تیار کردہ مجاہدین کے کارناموں کا ذکر کرتی۔ تب حکومتیں اس تمام عمل میں خاموش حمایتی تھیں۔
آئی ایس آئی افغان وار کی وجہ سے اپنا لوہا منوا چکی تھی، اور اس بناء پر نشانے پر آ چکی تھی (اب بھی ہے کہ اُس کے خلاف اشاروں میں خبر چھاپی جاتی ہے)۔ لہذا ضیاء کے مرنے کے بعد اگلی حکومت سے امریکہ نے ایجنسیوں کی ازسرنو تنظیم کے نام پر اچھا خاصہ جھاڑوں پھیرا! تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی ریٹائر فوجی (Shamsur Rehman Kallue) اس کا سربراہ بنا اور باقی ماندہ پھر بی بی کے دوسرے دور میں جب اچھے لوگ نکال باہر کئے۔ اُس دور میں وہ سربراہ تھے آئی ایس آئی کے چالیس سپاروں والے قاضی! امریکن نیو ورلڈ آرڈر اور تہذیبوں کے تصادم والا نظریہ پیدا کیا جا چکا تھا! امریکہ اکیلا چوہدری تھا! کشمیر کے مسئلہ آنکھوں سے اوجھل ہوتا جارہا تھا عالمی سطح پر اس کو ایک بار پھر اجاگر کرنے کے واسطے کارگل وار لڑی گئی! نا سمجھی سے یہ گیم تھیوری (بین اقوامی قانون میں نظریہ کھیل بہت اہم ہے) بھی کام نہ آئی۔ ایک آمر ہو نے اور امریکی حمایت کی غیر موجودگی میں بھی جب وہ آگرہ میں کشمیر پر دو ٹوک موقف اختیار کیا تو جنرل کو عوامی اور قومی میڈیا میں پذیرائی ملی مگر نائین الیون کے بعد بین الاقوامی حالات اور ہماری افغان پالیسی میں یو ٹرن دراصل ہمیں ایسی بند گلی میں لے گیاکہ جرنل کو ہر معاملے میں ہی امریکی مرضی کا ٹرن پڑا!!
کشمیر کے ماضی میں جائے بغیر یہ حقیقت ہے کہ کشمیر پر بھی ہمارا موقف ٹرن ہوا! بھارت اب بھی اُسے اٹوٹ انگ بتاتا ہے اپنا مگر یہاں سے نئی نئی تجاویر پیش کی جاتی رہی ہیں!! موم کی ناک کی طرح معاملہ کہاں سے کہاں چلا گیا! پہلے پہل یہ کہا جاتا رہا کہ کوئی معاملہ یا تعلق اُس وقت تک طے نہ ہو گا کہ جب تک کشمیر پر بات چیت نہ ہو گی مگر آہستہ آہستہ تجارتی ، سیاسی، اور ثقافتی تعلقات (طائفوں و طوائفوں کے تبادے) ہونے لگے! ایک خبر یہ بھی ہے کہ شاید الیکشن سے قبل بھارتی فلموں کی اجازت پاکستان میں دے دی جائے گی! اجازت؟؟ آج ویسے کسی بھارتی فلم کا اشتہار میں بندرروڈ پر موجود ایک سینماء پر دیکھا تھا! اور یہ سب کچھ یک طرفہ ہے!! ہمارا میڈیا اب بھی وہاں نہیں دیکھایا جاتا! کشمیر پر موقف نہیں سنا جاتا!
دوسری طرف اطلاعات یہ ہیں کہ سوات و وزیرستان میں کئی جگہوں سے مارنے جانے والے ایسے شر پسندوں کی لاشیں ملی ہیں جن کے ختنےنہیں ہوئے ہوئے تھے! اسلم بیگ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کی پاکستان کے خلاف افغانستان سےسازیشوں کی نشاندہی کر چکے ہیں! آج ہم یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں مگر کیا واقعی ہم یک جہت ہیں کشمیر کے ساتھ؟؟؟ اپنی بے وقوفیوں، نالائقیوں، خود پر حاکم اُن کی نمائندوں سے کیا ہمیں اپنے وجود کی جنگ لڑنی نہیں پڑ گئی! ہم “شہہ رگ “ بچا پائے گے، کیا جنت بچا لیں گے؟ یہاں تو مایوسی کا یہ عالم ہے کہ ہم لوگوں نے دوکانوں پر لکھ کر لگا رکھا ہے”کشمیر کی آزادی تک ادھاربند ہے۔” کہ نہ کشمیر نے آٓزاد ہونا ہے نہ ادھار دینا پڑے گا۔ ہم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف آ گئے ہیں کشمیر کے موقف پر۔

ہم میں سے کئی آج کشمیر ڈے نہیں چھٹی منائے گے، سیر کو جائے گے، انڈین گانے سنے گے فلمیں دیکھے گے اگر شام کو فرصت ہوئے تو ایک ٹی ؤی ڈرامہ بھی!!!! یہ ہے ناں “یوم یکجہتی کشمیر“؟؟؟؟

up date: حاصل اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے دسمبر 2007 تک کل 92,166 کشمیری شہید ہوئے جن میں سے 6,925 افراد زیر حراست مارے گئے، گرفتار شہریوں کی گنتی 114,512 تک، کل 105,560املاک و مکانات تباہ، 22,593 خواتین بیوہ، یتیم ہونے والے بچوں کی تعداد 107,054 اور 9,756 عورتیں کی عصمت دری یا اجتماعی ذیادتی کی گئی!!!