ایڈیٹر فیصل ملک Urdu Times of Pakistan
11 فروری
مصر کی عدالت نےان بارہ عیسائیوں کا عقیدہ سرکاری طور پر قبول کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نےاسلام قبول کرنے کے بعد واپس عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔
عدالت نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو رد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت اسلام سے دوسرے مذہب میں شامل ہونے کے عمل کو تسلیم نہیں کرتی۔
یہ مقدمہ مصر کی مذہبی رواداری کا ایک امتحان تھا۔
ان بارہ عیسائیوں کے وکیل نے اس فیصلے کو مذہبی آزادی اورانسانی حقوق کی جیت قرار دیا ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان لوگوں کو حوصلہ ملے گا جو واپس اپنا مذہب بدلنا چاہتے ہیں۔
حالانکہ اس فیصلے کا اطلاق محدود حالات میں ہوگا بتایا جاتا ہے کہ جج نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کو اسلام ترک کرنے کی بنیاد پر مرتد قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ دراصل عیسائی پیدا ہوئے تھے۔
اس کا مطلب یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ جو مصری مسلمان پیدا ہوئے ہیں انہیں مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ اسلام ترک کرنا غلط ہے اور کچھ کے خیال میں اس کی سزا موت ہے۔
گزشتہ برس ایک مصری شہری کو تبدیلیِ مذہب کے بعد اس وقت روپوش ہونا پڑا جب اس نے اپنے نئے مذہب کو سرکاری طور پرتسلیم کرانے کی کوشش کی اور اسے موت کی دھمکیاں ملنے لگیں۔
بشکریہ: بی بی سی اردو
Leave a reply
You must be logged in to post a comment.