فلم جودھا اکبر
سولہویں صدی میں مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر اور جودھا کی محبت کی داستان ہے

آشوتوش گواریکر کی ہدایت میں بنی فلم’جودھا اکبر‘ پندرہ فروری کو بیک وقت چھبیس ممالک میں ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے۔

سولہویں صدی میں مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر اور جودھا کی محبت کی داستان پر بنی اس فلم میں اکبر کا کردار رتیک روشن نے نبھایا ہے اور ان کی جودھا بنی ہیں ایشوریہ رائے۔

’لگان‘ جیسی کامیاب فلم بنا چکے گواریکر نے فلم’جودھا اکبر‘ کا سیٹ ممبئی سے نوے کلومیٹر دور کرجت میں بنایا تھا۔ فلم میں میدان جنگ میں اسی ہاتھی سو گھوڑے اور پچپن اونٹ استعمال کیے گئے۔فلم میں تلوار چلانے کے لیے ایشوریہ رائے اور رتیک دونوں کو تلوار بازی سکھائی گئی۔

فلم کے نغمے جاوید اختر نے لکھے ہیں اور موسیقی اے آر رحمن نے دی ہے۔اس فلم کا ایک گیت’عظیم الشان شہنشاہ‘ فلمانے کے لیے گواریکر نے ایک ہزار کے قریب رقاص اور رقاصاؤں پر شوٹنگ کی۔

فلم تین زبانوں میں ڈب کی گئی ہے۔ہندی، تیلگو اور تمل۔فلم چونکہ دنیا کے چھبیس ممالک میں ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے اس لیے غیر ممالک میں بھیجے جانے والے پرنٹس پر عربی، انگریزی اور ڈچ زبان میں مکالموں کوسب ٹائٹل کے طور پر لکھا گیا ہے۔

فلم جودھا اکبر
فلم کے مخالفین کے مطابق اکبر کی کوئی بھی بیوی اس نام کی نہیں تھی اور جودھا دراصل اکبر نہیں بلکہ سلیم کی بیوی یعنی اکبر کی بہو تھیں۔

یو ٹی وی کے ترجمان کے مطابق فلم کچھ عرصہ بعد پاکستان میں بھی نمائش کے لیے پیش ہو گی۔امریکہ میں اس کے ایک سو بائس پرنٹس بھیجے جائیں گے جو یو ٹی وی کے مطابق اب تک کی ہندی فلم کا ریکارڈ ہو گا۔ کینیڈا کے پانچ شہروں میں بیک وقت فلم کی نمائش ہو گی۔

گواریکر کے مطابق اس فلم کو شروع کرنے سے قبل انہوں نے لکھنو، نئی دہلی، آگرہ اور جے پور کی ریسرچ ٹیم سے مشورہ لیا تھا۔ان کے مطابق جودھا جے پور میں عمیر کے راجہ بھر مل کی بیٹی تھیں لیکن راجستھان کے لوگوں نے اس بات کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکبر کی کوئی بھی بیوی اس نام کی نہیں تھی اور جودھا دراصل اکبر نہیں بلکہ سلیم کی بیوی یعنی اکبر کی بہو تھیں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو